Skip to main content

مولانا وحید الدین خاں :- فکری کج روی اور ذہنی دیوالیہ پن کی علامت

 مولانا ندیم الواجدی
مولانا وحید الدین خاں اپنی متنازعہ تحریروں، غیر ضروری مجادلوں اور مناقشوں کی بنا پر کافی شہرت حاصل کرچکے ہیں، سنگھ پریوار کی دوستی نے انہیں قومی ذرائع ابلاغ میں بھی کافی مقبول بنا دیا ہے، حالاں کہ عموماً کسی مسلمان شخصیت کو اس طرح کی پذیرائی نہیں ملتی، لیکن کیوں کہ وہ پورے تسلسل کے ساتھ اس طرح کے خیالات ظاہر کرتے رہتے ہیں جن سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے اس لیے ہندی اور انگلش میڈیا کے لوگ انہیں سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں، ان کا مزاج منفی ہے، اختلافی اور تنقیدی تحریروں اور تقریروں سے ان کو طبعی مناسبت ہے، جب وہ کسی پر تنقید کرتے ہیں تو تمام آداب واخلاق اٹھا کر رکھ دیتے ہیں، ان کا انداز تحریر جارحانہ او ر غیر منصفانہ ہوتا ہے، وہ خود ساختہ دلائل پر اپنی تنقید کی عمارت تعمیر کرتے ہیں، ان کی تحریروں میں اغلاط اور تضادات کی بھرمار ہوتی ہے، انہوں نے عظیم اسلامی شخصیات اور تحریکات کو اپنی تحریروں کے ذریعے جارحانہ تنقید کا نشانہ بنایا، بعض محترم اسلامی شخصیتوں کی طرف غلط باتیں منسوب کرکے وہ انہیں بے دین، ملحد، زندیق اور جہنمی تک ٹھہرا چکے ہیں اسلامی تحریکات کے متعلق ان کا عام خیال یہ ہے کہ وہ اپنے مقاصد میں ناکام ہی نہیں بلکہ اسلام کے حق میں نقصان دہ رہی ہیں، ان کی جرأت اور بے باکی اس حد تک بڑھی ہوئی ہے کہ وہ اسلام کے مسلمہ اصول وعقائد اور تصورات ومعتقدات پر بھی تیشہ زنی کرنے سے نہیں چوکتے۔
وہ ایک اچھے مصنف اور صاحب قلم ضرورہیں، عصری علوم اور اسلامی مآخذ پر بھی ان کی گہری نظر ہے، ان کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ معمولی معمولی باتوں کا گہرائی سے مشاہدہ کرتے ہیں اور ان سے بڑے بڑے نتائج اخذ کرلیتے ہیں، شستہ اسلوب میں منطقی اور معروضی طرز استدلال نے ان کو پڑھنے والوں میں نہایت مقبول بنادیا تھا مگر وہ اپنی یہ مقبولیت برقرار نہ رکھ سکے اور بہت جلد تجدد پسندوں میں محدود ہوکر رہ گئے۔
مولانا وحید الدین خاں کا المیہ یہ ہے کہ وہ خود کو عقلِ کُل تصور کرتے ہیں، ان کا خیال یہ ہے کہ مزاجِ اسلام اور تاریخ اسلام کو جس قدر انہوں سمجھا ہے کسی دوسرے عالم نے نہیں سمجھا، وہ غرور علم کے مرض میں مبتلا ہیں اور خود کو کسی مجدد سے کم نہیں سمجھتے ’’الرسالہ‘‘ میں ان کی غیر متوازن تحریر یں اسلام پسندوں کے لے سوہان روح بنی رہتی ہیں، مذہب کے متعلق ان کا خیال ہے کہ یہ انسان کا نجی معاملہ ہے ، وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام چند معتقدات کا مجموعہ ہے مکمل نظام حیات نہیں ہے، وہ یہ بھی کہتے ہیںکہ فہمِ قرآن کے لیے علوم قرآن کی ضرورت نہیں ہے، احادیث کا بڑا ذخیرہ موضوع اور من گھڑت ہے ،فقہ نے امت اسلامیہ کو انتشار اور افتراق میں مبتلا کیا ہے، تصوف امت کے لیے کسی زہر قاتل سے کم نہیں ہے، اسلامی حدود وتعزیرات مبنی بر انصاف نہیں ہیں دین اسلام مکمل اورجامع دین نہیں ہے، انہوں نے امام ابوحنیفہؒ، امام مالکؒ امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ، ابن تیمیہؒ، جیسی مسلّم اور قابل احترام شخصیتوں کا مذاق اڑایا اور ان کی خدمات کو ردی کی ٹوکری میں ڈالے جانے کے قابل گردانا، انہوں نے نواسۂ رسول حضرت حسینؓ پر بھی تیز وتند تنقید یں کی ہیں، حضرت مجدد الف ثانی ؒبھی ان کے تیر ونشتر سے نہ بچ سکے، حضرت شاہ ولی اللہ ؒ اور ان کے علمی خانوادے کا ہر فرد ان کی جارحانہ تنقید کا نشانہ بنا، انہوں نے حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ سمیت تمام اکابر دیوبند کا جی بھر کے مذاق اڑایا ، وہ شاعر اسلام علامہ اقبال ؒکو بھی ہدف ملامت بناتے رہے، نہ ان کے یہاں کسی عالم دین کا احترام ہے، نہ کسی مصلح امت کا ،نہ کسی مجدد وقت کا، نہ مفسر ومحدث کا، نہ مجتہد وفقیہ کا، نہ غازی وشہید کا، ’’الرسالہ‘‘ کے صفحات بھرے پڑے ہیں جس کا جی چاہے دیکھ لے کہ امت کی قابل احترام شخصیتوں کی کس طرح کردار کشی کی گئی ہے، اور کس طرح ان کی خدمات کو خاک میں ملانے کی کوشش کی گئی ہے۔
ان کے یہاں تو رسول خداحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی وہ درجہ ومقام نہیں ہے جو ایک مؤمن کامل کے دل میں ہونا چاہئے اور جو اس کی تحریروں وتقریروں میں جھلکنا چاہئے، یہی وجہ ہے کہ وہ تمام انبیاء کے مقابلے میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت کے بھی قائل نہیں ہیں، اگر کسی مسلمان نے شاتم رسول سلمان رشدی، اور دریدہ دہن اور گستاخ مصنفہ تسلیمہ نسرین کی حمایت کی ہے تو وہ وحید الدین خاں ہیں، ملی تحریکوں اور تنظیموں سے انہیں خدا واسطے کا بیر ہے، کوئی ہندو مسلم قضیہ ایسا نہیں ہے جس میں وہ مسلمانوں کو قصور وار نہ ٹھہراتے ہوں بابری مسجد کی شہادت پر انہوں نے خوشی سے بغلیں بجائیں، وہ اس مسجد کو ہمیشہ غاصبانہ قرار دیتے رہے اور مسلمانوں کو یہ تلقین کرتے رہے کہ وہ اس پر اپنے دعوے سے دست بردار ہوجائیں اور اس کی زمین رام مندر کی تعمیر کے لیے چھوڑ دیں، ہم نے یہ تمام باتیں پورے احساس ذمہ داری کے ساتھ لکھی ہیں، اس مختصر مضمون میں یہ گنجائش نہیں کہ ان کے افکار عالیہ کے کچھ نمونے یہاں پیش کئے جائیں جو لوگ ان کی فکری گمراہیوں کا تجزیہ کرنا چاہتے ہیں وہ مندر جہ ذیل کتابیں ضرور پڑھیں، ’’فکر کی غلطی‘‘ (مولانا عتیق احمد بستوی) ’’اسلام میں اہانت رسول کی سزا‘‘، ’’وحید الدین خاں علماء اور دانش وروں کی نظر میں‘‘ (ڈاکٹر محسن عثمانی ندوی) ’’وحید الدین خاں کی گمراہیاں‘‘ (حکیم اجمل خاں) ’’مدیر الرسالہ اور تبلیغی جماعت‘‘’’ مولانا وحید الدین خاں اور مسئلہ بابری مسجد‘‘ مولانا وحید الدین خاں کی تنقید یں‘‘ (جناب محمد اشفاق حسین)۔’’قیامت کی نشانیاں اور مولانا وحید الدین خاں کے نظریات‘‘ (ندیم الواجدی)
حال ہی میں انھوں نے میانمار کے ستم رسیدہ روہنگیا مسلمانوں کے زخموں پر بھی نمک پاشی کی ہے، ’’الرسالہ‘‘ کے ایک مضمون میں ارشاد فرماتے ہیں :’’روہنگیا مسلمانوں کے بارے میں میری رائے صرف ایک ہی ہے، اور وہ ہے! روہنگیا مسلمانوں کا معاملہ ظلم کا نہیں ہے، بلکہ مسلم رہ نماؤں کی طرف سے اختیار کئے گئے غلط سیاسی موقف کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انجام کا ہے، جس کو روہنگیا کے مسلم لیڈروں نے بھڑکاکر ان کے لیے جذباتی ایشو بنادیا، اگر تصویر کے دونوں رُخ کو دیکھا جائے تو اس سے ایک آدمی اس نتیجے پر پہنچے گا کہ روہنگیا مسلمان ظلم کا شکار نہیں ہیں‘‘۔ یہ ہے وہ موقف جو انھوں نے میانمار کے حالیہ واقعات کے سلسلے میں اختیار کیا ہے، انھیں اس کی پرواہ نہیںہے کہ زمینی حقیقت کیا ہے، اور دنیا کیا کہہ رہی ہے، ان کے خیال میں میانمار کی جمہوری حکومت مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنانے میں حق بہ جانب ہے، کیوں کہ وہ بغاوت کو کچل رہی ہے جو اس کا آئینی حق ہے، اپنے کسی درسی ساتھی کی شہادت کی بنا پر جو برما کا رہنے والا تھا انھوں نے بدھسٹوں کی تحسین بھی کی ہے کہ وہ بڑے اچھے لوگ ہیں، مولانا نے اراکان (موجودہ  نام راکھین) میں مسلمانوں کی آمد کی تاریخ پر بھی روشنی ڈالی ہے اور اسے برما کا ایک صوبہ قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ صدیوں تک اراکان کے مسلمان برما کے باقی لوگوں کے ساتھ پر امن زندگی بسر کرتے رہے، اور یہ پُرامن حالت اس وقت تک باقی رہی جب تک کہ ان کے درمیان علیحدگی پسند رجحانات پیدا نہیں ہوئے۔
روہنگیا مسلمانوں کا معاملہ اس وقت بین الاقوامی سطح پر بحث کا موضوع بنا ہواہے، اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور متعدد ممالک نے میانمار کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسلمانوں پر ظلم وتشدد کا سلسلہ بند کرے اور جو لاکھوں مسلمان وہاں کی فوج اور عوام کے ظلم وستم سے عاجز آکر پڑوسی ملکوں کی طرف ہجرت کرگئے ہیں انھیں واپس لاکر دوبارہ آباد کرے، خود ہندوستان میں بھی چالیس ہزار کے قریب تارکین وطن روہنگیا مسلمان بے سروسامانی کی حالت میں بے یارومدد گار پڑے ہوئے ہیں، مودی حکومت نہیں چاہتی کہ وہ لوگ یہاں رہیں، حالاں کہ ہندوستان کے مسلمان اور یہاں کے سیکولر مزاج اور انصاف پسند ہندو نہیں چاہتے کہ ان مظلوموں کو ملک بدر کیا جائے، اس سلسلے میں سپریم کورٹ ایک کیس کی سماعت بھی کررہا ہے، پناہ گزینوں کی طرف سے پیروی کرنے والے ایک نامی گرامی ہندو وکیل ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو یہاں سے نکالنا انسانیت کے منافی تو ہے ہی بین الاقوامی قوانین کے بھی خلاف ہے، مگر ہماری حکومت پوری سنگ دلی کا مظاہرہ کررہی ہے، دوسری طرف وہ سری لنکا ، پاکستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے ہندو تارکین وطن پر مہربان ہے، صاف ظاہر ہے کہ وہ روہنگیا پناہ گزینوں کو اس لیے ملک بدر کرنا چاہتی ہے کہ وہ مسلمان ہیں، ایسے ماحول میں اور ان دل گداز حالات وواقعات کے تناظر میں مولانا وحید الدین خاں کی تحریر انتہائی تکلیف دہ اور بدبختانہ ضرور ہے مگر حیرت انگیز نہیں ہے، بلکہ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ اگر وہ یہ سب کچھ نہ لکھتے تو مجھے حیرت ہوتی، یہ تو خیر روہنگیا مسلمانوں کا معاملہ ہے وہ تو فلسطینیوں کی جدوجہد کی بھی تائید نہیں کرتے، انھوں نے ’’الرسالہ‘‘ (شمارہ اپریل ۲۰۰۹ء) میں قرآن کریم کی ایک آیت کے حوالے سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ارض فلسطین یہودیوں کا جائز اور حقیقی وطن ہے، یہودی ظالم نہیں مظلوم ہیں، ان کے خلاف سیاسی یا فوجی اقدام کرکے اُن کو وطن سے نکالنا غلط ہے، کیوں کہ اس وطن کا وارث اللہ نے انھیں بنایا ہے، احقر نے اسی وقت اپنے ایک مضمون کے ذریعے مولانا کے ان خیالات کا تعاقب کیا تھا اور انھوں نے قرآنی آیات کو توڑ مروڑ کر جس طرح اپنے حق میں استعمال کیا ہے اس کا جائزہ لیا تھا، میرایہ مضمون اس وقت کے اخبارات میں چھپ چکا ہے اور میری کتاب ’’قیامت کی نشانیاں اور مولانا وحید الدین خاں کے نظریات‘‘ میں بھی شامل ہے، وہاں اس کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے، یہاں صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ مولانا وحید الدین خاں اپنے لیے ہر معاملے میں بالکل الگ راستے کا انتخاب کرتے ہیں، خواہ وہ راستہ امت کے سواد اعظم کی راہ سے ہٹ کر کیوں نہ ہو، جو نظریہ وہ قائم کرتے ہیں اس کی بنیاد خود ساختہ دلائل پر ہوتی ہے، حقائق سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا، ب اراکان کے متعلق ان کے خیالات ہی کو لے لیجئے وہ یہ مانتے ہیں کہ یہاں مسلمان آئے، ان کے اخلاق اور عادات سے متأثر ہوکر یہاں کے لوگوں نے بڑی تعداد میں اسلام قبول کیا، مگر وہ یہ نہیں مانتے کہ اسلام کے حلقہ بہ گوشوں کی تعداد اس قدر بڑھی کہ اس علاقے میں اسلامی حکومت قائم ہوگئی، اور یہ حکومت ۱۷۸۴ء تک قائم رہی، وہ یہ کہتے ہیں کہ اراکان صدیوں سے برما کا صوبہ رہا ہے مگروہ یہ نہیں بتلاتے کہ بدھسٹوں نے فوجی کاروائی کے ذریعے ایک آزاد اسلامی ریاست اراکان کو اپنے ملک میں شامل کرلیا تھا، مولانا تو بڑا وسیع مطالعہ رکھتے ہیں، اس موضوع پر سینکڑوں کتابیں موجود ہیں کاش وہ ایک ایک انگریزی کتاب ’’The Muslim of Burma‘‘ ہی دیکھ لیتے جس کے مصنف Moshhe yogarہیں اور جس میں انھوں نے اراکان کے وجود سے لے کر آج تک کی مفصل تاریخ رقم کردی ہے۔
مولانا فرماتے ہیں کہ روہنگیا مسلمانون کو ان کی بغاوت کی سزا مل رہی ہے، اوّل تو ہمیں یہ تسلیم ہی نہیں کہ دبے کچلے اور بھوکے ننگے لوگ مسلح بغاوت بھی کرسکتے ہیں، اور اگر اسے تسلیم بھی کرلیا جائے تو کیا ان کی یہ جدوجہد غلط قرار دی جائے گی، آخر اُن سے ان کا ملک چھینا گیا، پھر اس ملک میں ان کا جینا دوبھر کیا گیا، ان سے حقوقِ شہریت چھین لئے گئے، ان کی مسجدیں مدرسے سب بند کردئے گئے، ان کے گاؤں دیہات سب جلاکر خاک کردئے گئے، اگر کچھ لوگ ان میں سے اٹھ کھڑے ہوئے ہوں اور انھوں نے جدوجہد کا راستہ اپنایا ہو تو کیا غلط ہے، اس طرح تو ہندوستان کی تحریک آزادی پر بھی سوالیہ نشان لگ سکتا ہے، انگریز بھی تو بدھسٹوں کی طرح ہمارے ملک پر قابض ہوئے تھے، ویسے بھی مولانا وحید الدین خاں کو یہ بتلانا چاہئے کہ اراکان میں مسلمانوں کی کونسی اور کتنی مسلح تنظیمیں سرگرم ہیں، اور ان کی جدوجہد کے نتیجے میں بدھسٹوں کو کتنا جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے، اس کے برعکس وہاں مسلمانوں کی جو حالت ِ زار ہے وہ ساری دنیا پر عیاں ہے، یہاں تک کہ اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں راکھیں کے روہنگیا مسلمانوں کو ’’دنیا کی مظلوم ترین اقلیت‘‘قرار دیا ہے، ہوسکتا ہے مولانا وحید الدین خاں کو اس طرح کی تحریروں سے کچھ وقتی فائدہ پہنچ جائے مگر اس عارضی زندگی کے بعد وہ خالق کائنات کی بارگاہ میں حاضرہوکر اپنے ان نظریات وخیالات کی کیا توجیہ اور تاویل کریں گے جو وہ اسلام اورمسلمانوں کے خلاف وقتاً فوقتًا ظاہر کرتے رہتے ہیں۔ 
nadimulwajidi@gmail.com

Comments

Popular posts from this blog

حافظ عمران نے غریب و یتیم بچوں کو مفت میں کھانا و تعلیم دینے کی ذمے داری اٹھائی

   _ جھارکھنڈ کے گڈا ضلع کے 23 سالہ حافظ عمران نے ایک مثال قائم کر دی ہے، متوسط طبقہ میں پلے بڑھے حافظ عمران نے پڑھائی کے دوران کئی دشواریوں کا سامنا کیا، مشکل حالات کے مدِ نظر ہی سوچ لیا تھا کہ پڑھائی کر ہم بھی غریب و یتیم بچوں کو مفت میں کھانا و تعلیم دینے کی ذمے داری اٹھائیں گے، آج اسلامیہ معارف القرآن نامی ادارہ قائم کر اپنے خواب کو سچ کر دکھایا، اسلامیہ معارف القرآن حیدرآباد  میں قائم کیا ہے جہاں غریب بچوں کو دینی و دنیاوی تعلیم دینے کے ساتھ رہنے کا بھی انتظام ہے، اس ادارہ میں زیادہ تر بچے یوپی، بہار، جھارکھنڈ، کے ہیں، جہاں سبھی بچے کئی اساتذہ کی نگرانی میں رہتے ہیں، جو لوگ اپنے بچوں کو اس ادارہ میں بھیجنا چاہتے ہیں وہ لوگ اس نمبر(8210250669/8019524209)سے رابطہ کر سکتے ہیں، اور ویسے حضرات جو اس کام میں مدد کرنا چاہتے ہیں حافظ عمران سے رابطہ کر مدد کر سکتے ہیں.

اگر آج مولانا ابوالکلام آزاد ہوتے ؟

  انجینئرعفان نعمانی آج ہم  ملک کے اس مشہور شخصیت کو یاد کرنے جا رہے ہے جسکے یوم ولادت پر پورا ملک ایجوکیشن ڈے کے طور پر مناتا ہے اور وہ شخص آزاد ہند کے پہلے وزیرِ تعلیم اور قومی رہنما مولانا ابوالکلام آزاد  ہے جو ١١ نوومبر١٨٨٨ میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے تھے -  مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت کا احاطہ کرنا ایسا ہے جیسے کسی سمندر کی حد بندی کرنا ۔ دانشور، دور اندیش سیاست داں، مفکر، فلسفی ، خطیب ، صحافی اور عالی مرتبہ مجتہد جیسے القاب میں بھی ان کو قید نہیں کیا جا سکتا ۔ مولانا نے صرف ہندوستان کی آزادی میں اہم کردار ادا نہیں کیا اور نہ ہی یہ کہا جا سکتا ہے کہ آزادی کے بعد وزیر تعلیم کی حیثیت سے انہوں نے ملک کو بہت کچھ دیا ۔ مولانا ایسی شخصیت کے مالک تھے کہ زندگی  کے ہر شعبہ میں ان کی گراں قدر خدمات ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مولانا کے علم اور صلاحیتوں کا فائدہ مہاتما گاندھی ، نہرو اور پٹیل نے اٹھایا لیکن مسلمانوں نے ان کی صلاحیتوں کو پہچانا ہی نہیں اور ان کو کانگریس کے قائد کے طور پر دیکھتے رہے۔ ابھی حال ہی مے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد جانا ...

مضبوط جمہوریت کیلئے منتشرنہیں،متحدملت کی ضرورت

اے یو آصف 2011کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان میں 172ملین مسلمان ہیں۔اس کا سیدھامطلب یہ ہواکہ یہ ملک کی آبادی کا 14.2فیصد ہیں اوردوسری سب سے بڑی مذہبی کمیونٹی ہیں۔اس تلخ حقیقت کے باوجودکہ یہ تعلیمی ، معیشتی ، معاشرتی اورسیاسی میدانوں میں اپنی آبادی کے تناسب سے کافی پیچھے اورکمزورہیں،اس بات سے انکارنہیں کیاجاسکتاہے کہ انہوں نے ملک کی آزادی اوراسکے بعداس کے تعمیرنومیں کلیدی کرداراداکیاہے۔آج بھی اس ملک کومضبوط جمہوریت کیلئے ان کی ضرورت ہے مگرمنتشرنہیں، متحدملت کی شکل میں۔ کسی بھی ملت میں مختلف ملکوں ، مختلف مکاتب فکراورمختلف الخیال افرادکا پایاجانازندگی کی علامت ہوتاہے لیکن اختلاف سے انتشارمیں بدل جانے کی صورت میں یہ جہاں اس ملت کیلئے خطرناک بن جاتاہے وہیں ملک کیلئے بھی نقصاندہ ثابت ہوتاہے ۔اس حقیقت سے کون انکارکرسکتاہے کہ اتحادکی جتنی ضرورت ملت کوہے ، اتنی ہی ضرورت وطن عزیزکوہے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کوہے۔ شایدیہی وہ احساس ہے کہ جوکہ ان دنوں مسلم ملت کے اندرپایاجارہاہے اوراس کا اندازہ مختلف تنظیموں کے ذمہ داروں اوراکابرین کے موقف ،آراء اورخیالات کوسن کراورپڑھ کرہوتاہے۔گزشتہ ...