Skip to main content

این آر سائنس سنٹر کے پروگرام میں سرکل انسکپٹر خلیل پاشاہ کی طلبہ کو نصیحت



حیدرآباد میں موجود این آر سائنس سنٹر میں دسویں جماعت کے طلبہ کے وداعی پروگرام کا انعقاد عمل میں لایا گیا جس میں سرکل انسکپٹرخلیل پاشاہ بہاردپورہ نے شرکت کی اور اس موقع پر دیگر اسکولس کے ڈائرکٹر اور ذمہ داران نے بحیثیت مہمانان خصوصی شرکت کی اس موقع پر جناب خلیل پاشاہ نے طلبہ سے خطاب کیا اور مفید مشوروں سے نوازہ اپنے خطاب میں کہا کہ اگر آپ کو دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلنا ہے تو سائنس اور پولیس ڈپارمینٹ میں موجودگی درج کروائے اور اسی طرح دنیا میں دو ہی اہم چیزیں ہے کامیابی اور ناکامی ،اور اسی طرح آدمی کو دنیا میں کامیاب ہونے کے لیے تیز ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ کتابوں کے مطالعہ اور اس میں دلچسپی لگانا ضروری ہے ،اور انہوں نے اپنے تعلیمی دور کا واقعہ پیش کیا کہ وہ تعلیمی دور میں پڑھنے میں آگے نہیں تھے لیکن اپنی محنت اور دلچسپی کی وجہ سے میں اتنی اہم عہد پر فائز ہوں ،اور اسی طرح مجھے خوشی ہوتی ہے کہ عفان نعمانی جیسے نوجوان ریسرچ اسکالرتعلیمی میدان میں مسلمانوں کے ماضی اور مستقبل کے بارے میں اخبارات اور میڈیا میںآواز اٹھاتے ہیں اور اسی طرح این آر سائنس سنٹرکے ذریعہ مسلمان طلبہ میں سائنس اور ریسرچ کے بارے میں شعور بیدار کررہے ہیں لیکن اس مہم میں اس وقت تک مضبوطی نہیں آئے گی جب تک کہ ہم تمام اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہیں لیں گے میں اس موقع پر موجود تمام اسکولس کے ڈائرکٹر اور ذمہ داران کو یہ کہتا ہوں کہ اس طرح کے پروگرام اپنے اپنے اسکولس اور مقامات پر کروائے اور مسلمانوں میں شعور بیدار کریں اور مسلم نوجوانوں کو ترقی کی طرف گامزن کرنے پر توجہ دیں اور اسی کے ذریعہ نوجوانوں میں ترقی کی راہیں نکلیں گی ، اور کہا کہ اگر آپ کو دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلنا ہے تو سائنس اور پولیس ڈپارمینٹ میں موجودگی درج کروائے۔پروگرام میں این آر سائنس سنٹر کے ڈائرکٹر اور ریسرچ اسکالرس انجئینر عفان نعمانی نے اپنی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے والوں میں سب سے کم تعداد مسلمانوں کی ہے۔43فیصد ایسے طلبہ ہیں جنہوں اسکول کی صورت ہی نہیں دیکھی ۔تعلیم کو درمیان میں چھوڑنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہیں !اوسطاً ایک سال میں ہندوستان ہونے والے 513پی ایچ ڈی اسکالر میں مسلم پی ایچ ڈی اسکالر کی تعداد ایک فیصد ہے ! یونیرسکوڈیولیمنٹ رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں اسرائیلی ایک سال میں 40کتابیں پڑھتا ہے اور یورپین ایک سال میں35کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے جب کہ مسلم ایک سال میں ایک یا ایک سے کم کتاب کا مطالعہ کرتا ہے ! کتنی حیرت کی بات ہے کہ جس قوم کے پیغمبر پر قرآن کی پہلی آیت اقرا(پڑھو) نازل ہوئی اسی قوم کی حالت آج کی تاریخ میں اتنی خراب ہے کہ وہ پوری دنیا میں اس کو مطالعہ میں سب سے نیچے درجہ میں شمار کیا جارہا ہے ۔انجئنیر نعمانی نے پولیس آفسر خلیل پاشاہ کے باتوں سے متفق ہوتے ہوئے کہا کہ یقیناًہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں اپنی محنت سے پوری دنیا میں اپنا لوہا منوا سکتے ہیں ،اس لیے ضروری ہے کہ مسلم نوجوان زیادہ سے زیادہ اپناوقت علم حاصل کرنے اور کتابوں میں لگائے ،اس موقع پر این آر سائنس سنٹر کے ایم ۔ڈی سید نذیر اور دیگر مہمان ایڈوکیٹ ذاکر علی ،سن ریز ہائی اسکول کے پرنسپل محمد محسن،النور انسٹیوٹ کے ڈائرکٹر خواجہ معز اور فہاد خان نے خطاب کیا اور طلبہ کے مستقبل کے لیے مبارکباد پیش کی ۔

Comments

Popular posts from this blog

حافظ عمران نے غریب و یتیم بچوں کو مفت میں کھانا و تعلیم دینے کی ذمے داری اٹھائی

   _ جھارکھنڈ کے گڈا ضلع کے 23 سالہ حافظ عمران نے ایک مثال قائم کر دی ہے، متوسط طبقہ میں پلے بڑھے حافظ عمران نے پڑھائی کے دوران کئی دشواریوں کا سامنا کیا، مشکل حالات کے مدِ نظر ہی سوچ لیا تھا کہ پڑھائی کر ہم بھی غریب و یتیم بچوں کو مفت میں کھانا و تعلیم دینے کی ذمے داری اٹھائیں گے، آج اسلامیہ معارف القرآن نامی ادارہ قائم کر اپنے خواب کو سچ کر دکھایا، اسلامیہ معارف القرآن حیدرآباد  میں قائم کیا ہے جہاں غریب بچوں کو دینی و دنیاوی تعلیم دینے کے ساتھ رہنے کا بھی انتظام ہے، اس ادارہ میں زیادہ تر بچے یوپی، بہار، جھارکھنڈ، کے ہیں، جہاں سبھی بچے کئی اساتذہ کی نگرانی میں رہتے ہیں، جو لوگ اپنے بچوں کو اس ادارہ میں بھیجنا چاہتے ہیں وہ لوگ اس نمبر(8210250669/8019524209)سے رابطہ کر سکتے ہیں، اور ویسے حضرات جو اس کام میں مدد کرنا چاہتے ہیں حافظ عمران سے رابطہ کر مدد کر سکتے ہیں.

اگر آج مولانا ابوالکلام آزاد ہوتے ؟

  انجینئرعفان نعمانی آج ہم  ملک کے اس مشہور شخصیت کو یاد کرنے جا رہے ہے جسکے یوم ولادت پر پورا ملک ایجوکیشن ڈے کے طور پر مناتا ہے اور وہ شخص آزاد ہند کے پہلے وزیرِ تعلیم اور قومی رہنما مولانا ابوالکلام آزاد  ہے جو ١١ نوومبر١٨٨٨ میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے تھے -  مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت کا احاطہ کرنا ایسا ہے جیسے کسی سمندر کی حد بندی کرنا ۔ دانشور، دور اندیش سیاست داں، مفکر، فلسفی ، خطیب ، صحافی اور عالی مرتبہ مجتہد جیسے القاب میں بھی ان کو قید نہیں کیا جا سکتا ۔ مولانا نے صرف ہندوستان کی آزادی میں اہم کردار ادا نہیں کیا اور نہ ہی یہ کہا جا سکتا ہے کہ آزادی کے بعد وزیر تعلیم کی حیثیت سے انہوں نے ملک کو بہت کچھ دیا ۔ مولانا ایسی شخصیت کے مالک تھے کہ زندگی  کے ہر شعبہ میں ان کی گراں قدر خدمات ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مولانا کے علم اور صلاحیتوں کا فائدہ مہاتما گاندھی ، نہرو اور پٹیل نے اٹھایا لیکن مسلمانوں نے ان کی صلاحیتوں کو پہچانا ہی نہیں اور ان کو کانگریس کے قائد کے طور پر دیکھتے رہے۔ ابھی حال ہی مے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد جانا ...

مضبوط جمہوریت کیلئے منتشرنہیں،متحدملت کی ضرورت

اے یو آصف 2011کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان میں 172ملین مسلمان ہیں۔اس کا سیدھامطلب یہ ہواکہ یہ ملک کی آبادی کا 14.2فیصد ہیں اوردوسری سب سے بڑی مذہبی کمیونٹی ہیں۔اس تلخ حقیقت کے باوجودکہ یہ تعلیمی ، معیشتی ، معاشرتی اورسیاسی میدانوں میں اپنی آبادی کے تناسب سے کافی پیچھے اورکمزورہیں،اس بات سے انکارنہیں کیاجاسکتاہے کہ انہوں نے ملک کی آزادی اوراسکے بعداس کے تعمیرنومیں کلیدی کرداراداکیاہے۔آج بھی اس ملک کومضبوط جمہوریت کیلئے ان کی ضرورت ہے مگرمنتشرنہیں، متحدملت کی شکل میں۔ کسی بھی ملت میں مختلف ملکوں ، مختلف مکاتب فکراورمختلف الخیال افرادکا پایاجانازندگی کی علامت ہوتاہے لیکن اختلاف سے انتشارمیں بدل جانے کی صورت میں یہ جہاں اس ملت کیلئے خطرناک بن جاتاہے وہیں ملک کیلئے بھی نقصاندہ ثابت ہوتاہے ۔اس حقیقت سے کون انکارکرسکتاہے کہ اتحادکی جتنی ضرورت ملت کوہے ، اتنی ہی ضرورت وطن عزیزکوہے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کوہے۔ شایدیہی وہ احساس ہے کہ جوکہ ان دنوں مسلم ملت کے اندرپایاجارہاہے اوراس کا اندازہ مختلف تنظیموں کے ذمہ داروں اوراکابرین کے موقف ،آراء اورخیالات کوسن کراورپڑھ کرہوتاہے۔گزشتہ ...