Skip to main content

سابق آئی پی ایس، سائنسداں، اسکالر ، صحافی و سماجی کارکن نے فیصل خان کی رہائی کی مانگ کی

 

نئی دہلی (پریس ریلیز) 3 نومبر 2020
سیمانت گاندھی کھے جانے والے خان عبد الغفار خان کے خدائی خدمتگار تنظیم کو دوبارہ قائم کرنے والے فیصل خان کی گرفتاری کو سابق آئی پی ایس ، سائنسداں ، اسکالر ، صحافی و سماجی کارکن نے غلط بتایا ، اور جلد سے جلد رہا کرنے کی مانگ کی ، 
خدائی خدمتگار تنظیم کے ترجمان پون یادو نے کہا کہ خدائی خدمتگار تنظیم کے سربراہ فیصل خان اپنی برج کے 84 کوسی پری کرما  کے دوران ایک مندر میں تھے ، نماز کا وقت ہوا تو عزت مآب پجاری نے خود فیصل خان کو ٹھہرنے کی دعوت و نماز پڑھنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ یہ بھی خدا کا گھر ہے، یہیں پڑھ لیجئے، لیکن شوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ طاقتوں نے خان کے خلاف من گھڑت مہم چلایا اور نتیجتاً یوپی پولیس کے ذریعہ تعزیرات ہند دفعہ 153 A, 295، اور 505 کے تحت فیصل خان سمیت دیگر تین پر مقدمہ درج ہوا، 2، نومبر 2020 کو قریب چار بجے یوپی پولیس انہیں دہلی میں گرفتار کے بعد متھرا لے گئی، 
ہم حسرت موہانی اور ایک گنیش شنکر ودھیارتھی کو ماننے والے ہیں ہم اُن کی نسل ہیں مٹ جائیں گے مگر محبت کا راستہ نہیں چھوڑیں گے ، ہماری وراثت اتنی کمزور نہیں کہ کوئی اس پر سازش جیسے جھوٹے الزامات لگاکر کمزور کریں، 
سابق آئی پی ایس دھورو گپت نے اپنے بیان میں کہا کہ بغیر معاملے کی تفتیش میں گئیں میڈیا کی دباؤ میں فیصل خان کی گرفتاری سے اُن تمام لوگوں کو دھچکا لگا جو ملک میں سبھی مذہبوں کے لوگوں کے بیچ آپسی سمجھ ، عزت ، محبت اور بھائی چارگی بڑھانے کی کوششوں میں لگیں ہیں، میں فیصل خان کے ساتھ کھڑا ہوں، 
مشہور سائنسداں گوہر رضا نے کہا کہ یہ بات صاف ہے کہ یوپی میں محبت کا پیغام دینا اور آئین و قانون کی بات کرنا جرم ہو گیا ہے، گھوم گھوم کر سارے ملک میں محبت کا پیغام دینے والے فیصل خان کی فوراً رہائی کی مانگ کرتا ہوں،
 ریمن میگسیس ایوارڈ یافتہ مشہور سماجی کارکن ڈاکٹر سندیپ پانڈے نے پریس ریلیز کرتے ہوئے کہا کہ ہم سماج سے اپیل کرتے ہیں کہ فیصل خان کو ٹھیک سے سمجھیں اور سماجک بھائی چارگی کو مضبوط کرنے کی کوششوں کا ساتھ دے نا کہ اُن کا جو سماج کو اپنے فائدے کے لئے بانٹنا چاہتے ہیں، ہم یہ بھی مانگ کرتے ہیں کہ یوپی سرکار و پولیس اپنی غلطی کو سدھارتے ہوئے فیصل خان و اُن کے ساتھیوں کے خلاف درج مقدمہ واپس لیں و فیصل خان کو باعزت رہا کریں،
 ایس ای آر ایف کے ریسرچ اسکالر و قلم کار عفّان نعمانی نے کہا کہ کسی کے مذہبی رسم و رواج الگ ہو سکتے ہیں لیکن کسی کے ساتھ ناانصافی ٹھیک نہیں، نفرت کے ماحول میں محبت کاپیغام پھیلانے والے فیصل خان کی گرفتاری پر کئی سوال کھڑے ہو رہے ہیں، یہ کیس کورٹ میں زیادہ دن تک نہیں ٹک سکتا ، ہمیں اپنے آئین و قانون پر بھروسہ ہیں، جلد ہی فیصل خان رہا ہو جائیں گے،
 قومی آندولن فرنٹ سربراہ سوربھ واجپئی نے کہا کہ فیصل بھائی ایک جانے مانے سماجی کارکن ہے، بے پناہ خصوصیات کے حامل ہے، گاندھی جی اور سمانت گاندھی کے پیروکار ہے، اُن کو کسی بھی فرقہ وارانہ سازش میں ملوث کرنے کی ہر کوشش کی قومی آندولن فرنٹ پرزور مخالفت کرتا ہے، اور اُنہیں جلد سے جلد رہا کرنے کی مانگ کرتا ہے،

Comments

Popular posts from this blog

حافظ عمران نے غریب و یتیم بچوں کو مفت میں کھانا و تعلیم دینے کی ذمے داری اٹھائی

   _ جھارکھنڈ کے گڈا ضلع کے 23 سالہ حافظ عمران نے ایک مثال قائم کر دی ہے، متوسط طبقہ میں پلے بڑھے حافظ عمران نے پڑھائی کے دوران کئی دشواریوں کا سامنا کیا، مشکل حالات کے مدِ نظر ہی سوچ لیا تھا کہ پڑھائی کر ہم بھی غریب و یتیم بچوں کو مفت میں کھانا و تعلیم دینے کی ذمے داری اٹھائیں گے، آج اسلامیہ معارف القرآن نامی ادارہ قائم کر اپنے خواب کو سچ کر دکھایا، اسلامیہ معارف القرآن حیدرآباد  میں قائم کیا ہے جہاں غریب بچوں کو دینی و دنیاوی تعلیم دینے کے ساتھ رہنے کا بھی انتظام ہے، اس ادارہ میں زیادہ تر بچے یوپی، بہار، جھارکھنڈ، کے ہیں، جہاں سبھی بچے کئی اساتذہ کی نگرانی میں رہتے ہیں، جو لوگ اپنے بچوں کو اس ادارہ میں بھیجنا چاہتے ہیں وہ لوگ اس نمبر(8210250669/8019524209)سے رابطہ کر سکتے ہیں، اور ویسے حضرات جو اس کام میں مدد کرنا چاہتے ہیں حافظ عمران سے رابطہ کر مدد کر سکتے ہیں.

اگر آج مولانا ابوالکلام آزاد ہوتے ؟

  انجینئرعفان نعمانی آج ہم  ملک کے اس مشہور شخصیت کو یاد کرنے جا رہے ہے جسکے یوم ولادت پر پورا ملک ایجوکیشن ڈے کے طور پر مناتا ہے اور وہ شخص آزاد ہند کے پہلے وزیرِ تعلیم اور قومی رہنما مولانا ابوالکلام آزاد  ہے جو ١١ نوومبر١٨٨٨ میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے تھے -  مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت کا احاطہ کرنا ایسا ہے جیسے کسی سمندر کی حد بندی کرنا ۔ دانشور، دور اندیش سیاست داں، مفکر، فلسفی ، خطیب ، صحافی اور عالی مرتبہ مجتہد جیسے القاب میں بھی ان کو قید نہیں کیا جا سکتا ۔ مولانا نے صرف ہندوستان کی آزادی میں اہم کردار ادا نہیں کیا اور نہ ہی یہ کہا جا سکتا ہے کہ آزادی کے بعد وزیر تعلیم کی حیثیت سے انہوں نے ملک کو بہت کچھ دیا ۔ مولانا ایسی شخصیت کے مالک تھے کہ زندگی  کے ہر شعبہ میں ان کی گراں قدر خدمات ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مولانا کے علم اور صلاحیتوں کا فائدہ مہاتما گاندھی ، نہرو اور پٹیل نے اٹھایا لیکن مسلمانوں نے ان کی صلاحیتوں کو پہچانا ہی نہیں اور ان کو کانگریس کے قائد کے طور پر دیکھتے رہے۔ ابھی حال ہی مے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد جانا ...

مضبوط جمہوریت کیلئے منتشرنہیں،متحدملت کی ضرورت

اے یو آصف 2011کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان میں 172ملین مسلمان ہیں۔اس کا سیدھامطلب یہ ہواکہ یہ ملک کی آبادی کا 14.2فیصد ہیں اوردوسری سب سے بڑی مذہبی کمیونٹی ہیں۔اس تلخ حقیقت کے باوجودکہ یہ تعلیمی ، معیشتی ، معاشرتی اورسیاسی میدانوں میں اپنی آبادی کے تناسب سے کافی پیچھے اورکمزورہیں،اس بات سے انکارنہیں کیاجاسکتاہے کہ انہوں نے ملک کی آزادی اوراسکے بعداس کے تعمیرنومیں کلیدی کرداراداکیاہے۔آج بھی اس ملک کومضبوط جمہوریت کیلئے ان کی ضرورت ہے مگرمنتشرنہیں، متحدملت کی شکل میں۔ کسی بھی ملت میں مختلف ملکوں ، مختلف مکاتب فکراورمختلف الخیال افرادکا پایاجانازندگی کی علامت ہوتاہے لیکن اختلاف سے انتشارمیں بدل جانے کی صورت میں یہ جہاں اس ملت کیلئے خطرناک بن جاتاہے وہیں ملک کیلئے بھی نقصاندہ ثابت ہوتاہے ۔اس حقیقت سے کون انکارکرسکتاہے کہ اتحادکی جتنی ضرورت ملت کوہے ، اتنی ہی ضرورت وطن عزیزکوہے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کوہے۔ شایدیہی وہ احساس ہے کہ جوکہ ان دنوں مسلم ملت کے اندرپایاجارہاہے اوراس کا اندازہ مختلف تنظیموں کے ذمہ داروں اوراکابرین کے موقف ،آراء اورخیالات کوسن کراورپڑھ کرہوتاہے۔گزشتہ ...