Skip to main content

مشاورت کی مجلس عاملہ کا اجلاس ودودرامیں منعقد،قراردادیں پاس

                                                                                                                                               
                                                           
مسلمانوں کی معروف وفاقی تنظیم آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی مجلس عاملہ کا اجلاس بڑودا کے پریزیدینٹ ہوٹل میں منعقد ہوا، جس کی صدارت صدر مشاورت نوید حامد نے کی ۔ افتتاحی کلمات میں صدر مشاورت نے ملک میں بڑھتی فسطائیت ، تشدد پر مبنی سیاست ، اقلیتوں اور کمزور طبقات پر بڑھتے حملوں ، ناقص معاشی پالیسی اور فرقہ واریت پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔صدر مشاورت نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے اس بات پربھی افسوس کا اظہار کیا کہ موجودہ سرکارخارجہ پالیسی کو بھی فرقہ وارانہ تناظر میں مرتب کررہی ہے اور وزیر اعظم کے اسرائیل کے دورہ کے دوران ریاست فلسطین کو نظر انداز کر نااور مغربی کنارہ کا دورہ نہ کرنا ، میانمار حکومت کی حمایت اور اس صدی کے بدترین انسانی قتل عام کی مذمت نہ کرنا اس حکومت کی فرقہ وارانہ ومتعصب ذہنیت کی عکاسی ہے۔صدر مشاورت نے ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور انسانی اقدار کی گراوٹ پر بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا ۔ انہوں نے سرکار کے ذ ریعہ میڈیا کو دبانے اور آزادانہ صحافت پر گرفت کرنے کی سخت مذمت کی۔صدر مشاورت نے فلسطین کے فتح اور حماس گروپوں میں ہوئے اتحاد ی معاہدہ پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ اتحاد فلسطینی عوام کی آرزوؤں کو پورا کرنے کی بھر پور کوشش کرے گا۔

شرکاء اجلاس کا یہ خیال تھا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت اور فسطائیت کا مقابلہ برادران وطن کے ساتھ بہتر تعلقات اور ہم خیال لوگوں سے مستقل روابط بنانے سے ہی جمہوری اقدار کے تحفظ کا کام ہو سکتا ہے۔اجلاس نے اس بات پر اپنی گہری تشویش کا بھی اظہار کیا کہ سنگھ پریوار اور موجودہ حکومت ایک منظم سازش کے تحت تمام آئینی اداروں کو کمزور کرنا چاہتی ہے اور اس کی زندہ مثال الیکشن کمیشن کا گجرات چناؤ کی تاریخوں کے اعلان میں تاخیر ہے۔مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس نے کشمیر میں جاری تشدد اور وہاں پر امن و امان کی صورت حال پر اپنی گہری تشویش کا بھی اظہار کیا اور اس بات پر اپنی بے چینی کا اظہار کیا کہ ریاست میں مستقل سیاسی حل نکالنے میں حکومت کی کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی دیتی اور تمام اعلانات صرف اعلانات کی حد تک ہی محدود ہیں۔
مجلس عاملہ نے ملک میں جاری گؤ رکشوں کے تشدد پر بھی اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا اور اس بات کی سخت مذمت کی کہ وزیر اعظم کے بیانات کے باوجود یہ ہجومی تشد رکنے کا نام نہیں لے رہا کیوں کہ اس تشددکو سنگھ پریوار اور بی جے پی حکومتوں والی سرکاروں کی کھلی پشت پناہی شامل ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سرکار کے ذمہ داران مختلف زبانوں میں بول کر اس مسئلہ کو

 
مجلس عاملہ کے اجلاس نے میانمار سے نکالے گئے مظلوم روہنگیا مسلمانوں کی زبوں حالی پر اپنے گہرے رنج و غم کا بھی اظہار کیا اور اس بات پر سخت مایوسی کا اظہار کیا کہ بودھ مذہب جو امن و آشتی کا مذہب ہے اس کے کچھ پیروکار مظلوم روہنگیامسلمانوں کا نہ صرف قتل عام کررہے ہیں بلکہ ان کی خواتین کی عصمت دری اور معصوم بچوں کو مارنے کے مر تکب ہیں۔ مجلس عاملہ نے عالمی برادری سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ میانمار حکومت کے خلاف تجارتی اور فوجی تعاون پر مکمل پابندی لگائی جائے ۔ مجلس عاملہ نے او آئی سی اور دیگر مسلم ممالک بشمول ترکی اور حکومت سعودی عربیہ کا شکریہ ادا کیا کہ وہ اس مسئلہ کو نہ صرف سنجیدگی سے بین الاقوامی سطح پر اٹھا رہی ہیں بلکہ مظلومین کو تمام امداد فراہم کرنے میں پیش پیش ہیں۔اجلاس عاملہ نے حکومت بنگلہ دیش کی ان تمام کوششوں کو سراہا جن کے تحت وہ اپنے ملک میں پناہ گزینوں کی دادرسی کررہی ہے۔
مجلس عاملہ نے سعودی اتحاد اور قطر کے درمیان جاری تنازعات اور عراق کے کردستان میں آزادی کے ریفرنڈم کے بعد پیدا تشویشناک حالات پر بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا اور توقع ظاہر کی کہ عالم اسلام میں جاری باہمی اختلافات کا فوری طور پر کوئی حل نکلے گا۔


Comments

Popular posts from this blog

حافظ عمران نے غریب و یتیم بچوں کو مفت میں کھانا و تعلیم دینے کی ذمے داری اٹھائی

   _ جھارکھنڈ کے گڈا ضلع کے 23 سالہ حافظ عمران نے ایک مثال قائم کر دی ہے، متوسط طبقہ میں پلے بڑھے حافظ عمران نے پڑھائی کے دوران کئی دشواریوں کا سامنا کیا، مشکل حالات کے مدِ نظر ہی سوچ لیا تھا کہ پڑھائی کر ہم بھی غریب و یتیم بچوں کو مفت میں کھانا و تعلیم دینے کی ذمے داری اٹھائیں گے، آج اسلامیہ معارف القرآن نامی ادارہ قائم کر اپنے خواب کو سچ کر دکھایا، اسلامیہ معارف القرآن حیدرآباد  میں قائم کیا ہے جہاں غریب بچوں کو دینی و دنیاوی تعلیم دینے کے ساتھ رہنے کا بھی انتظام ہے، اس ادارہ میں زیادہ تر بچے یوپی، بہار، جھارکھنڈ، کے ہیں، جہاں سبھی بچے کئی اساتذہ کی نگرانی میں رہتے ہیں، جو لوگ اپنے بچوں کو اس ادارہ میں بھیجنا چاہتے ہیں وہ لوگ اس نمبر(8210250669/8019524209)سے رابطہ کر سکتے ہیں، اور ویسے حضرات جو اس کام میں مدد کرنا چاہتے ہیں حافظ عمران سے رابطہ کر مدد کر سکتے ہیں.

اگر آج مولانا ابوالکلام آزاد ہوتے ؟

  انجینئرعفان نعمانی آج ہم  ملک کے اس مشہور شخصیت کو یاد کرنے جا رہے ہے جسکے یوم ولادت پر پورا ملک ایجوکیشن ڈے کے طور پر مناتا ہے اور وہ شخص آزاد ہند کے پہلے وزیرِ تعلیم اور قومی رہنما مولانا ابوالکلام آزاد  ہے جو ١١ نوومبر١٨٨٨ میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے تھے -  مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت کا احاطہ کرنا ایسا ہے جیسے کسی سمندر کی حد بندی کرنا ۔ دانشور، دور اندیش سیاست داں، مفکر، فلسفی ، خطیب ، صحافی اور عالی مرتبہ مجتہد جیسے القاب میں بھی ان کو قید نہیں کیا جا سکتا ۔ مولانا نے صرف ہندوستان کی آزادی میں اہم کردار ادا نہیں کیا اور نہ ہی یہ کہا جا سکتا ہے کہ آزادی کے بعد وزیر تعلیم کی حیثیت سے انہوں نے ملک کو بہت کچھ دیا ۔ مولانا ایسی شخصیت کے مالک تھے کہ زندگی  کے ہر شعبہ میں ان کی گراں قدر خدمات ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مولانا کے علم اور صلاحیتوں کا فائدہ مہاتما گاندھی ، نہرو اور پٹیل نے اٹھایا لیکن مسلمانوں نے ان کی صلاحیتوں کو پہچانا ہی نہیں اور ان کو کانگریس کے قائد کے طور پر دیکھتے رہے۔ ابھی حال ہی مے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد جانا ...

مضبوط جمہوریت کیلئے منتشرنہیں،متحدملت کی ضرورت

اے یو آصف 2011کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان میں 172ملین مسلمان ہیں۔اس کا سیدھامطلب یہ ہواکہ یہ ملک کی آبادی کا 14.2فیصد ہیں اوردوسری سب سے بڑی مذہبی کمیونٹی ہیں۔اس تلخ حقیقت کے باوجودکہ یہ تعلیمی ، معیشتی ، معاشرتی اورسیاسی میدانوں میں اپنی آبادی کے تناسب سے کافی پیچھے اورکمزورہیں،اس بات سے انکارنہیں کیاجاسکتاہے کہ انہوں نے ملک کی آزادی اوراسکے بعداس کے تعمیرنومیں کلیدی کرداراداکیاہے۔آج بھی اس ملک کومضبوط جمہوریت کیلئے ان کی ضرورت ہے مگرمنتشرنہیں، متحدملت کی شکل میں۔ کسی بھی ملت میں مختلف ملکوں ، مختلف مکاتب فکراورمختلف الخیال افرادکا پایاجانازندگی کی علامت ہوتاہے لیکن اختلاف سے انتشارمیں بدل جانے کی صورت میں یہ جہاں اس ملت کیلئے خطرناک بن جاتاہے وہیں ملک کیلئے بھی نقصاندہ ثابت ہوتاہے ۔اس حقیقت سے کون انکارکرسکتاہے کہ اتحادکی جتنی ضرورت ملت کوہے ، اتنی ہی ضرورت وطن عزیزکوہے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کوہے۔ شایدیہی وہ احساس ہے کہ جوکہ ان دنوں مسلم ملت کے اندرپایاجارہاہے اوراس کا اندازہ مختلف تنظیموں کے ذمہ داروں اوراکابرین کے موقف ،آراء اورخیالات کوسن کراورپڑھ کرہوتاہے۔گزشتہ ...