Skip to main content

ہر انسان کی ذمہ داری ھیکہ وہ اپنے قول وفیل سے مخلوق خدا کی خدمت ودلبستگی کرے


                                                                                             

  الامدادایجوکیشنل اینڈ ویلفئر ٹرسٹ کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے درجنوں افراد کی مالی تعاون 
ہر انسان کے ذمے انکی طاقت وبساط کے مطابق مخلوق کی خدمت ضروری ھے اور ہر انسان کی ذمہ داری ھیکہ وہ اپنے قول وفیل سے مخلوق خدا کی خدمت ودلبستگی کرے اور اسکے لیئے کارخیرکاجذبہ رکھے اور اسے ہر بھلائ کی راہ سے باخبر کرے اور تمام برائیوں سے بچانے کی کوشش کرے یہ باتیں الامدادایجوکیشنل اینڈ ویلفئر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری وناظم جامعہ اشاعت العلوم سمستی پور قاری ممتاز احمد جامعی نے ٹرسٹ کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقہ کے درجنوں افراد کے درمیان مالی تعاون کی تقسیم کے موقع پر کہیں انہوں نے کہاکہ اللہ نے مصیبت زدہ لوگوں کی امداد زیادہ سے زیادہ کرنےکی عوام الناس کو تلقین کی اسی مقصد کے پیش نظر ٹرسٹ کا قیام سمستی پور ضلع ہیڈکواٹر سے بیس 20 کیلومیٹر شمال کی جانب کلیانپور حلقہ کے کرھوا گاوءں میں 2009 ء کو ریاست کے مشہورومعروف علماءکرام کے مشورہ اور مددسے عمل میں آیا جنمین قابل ذکر اسم گرامی حضرت مولانا مفتی ثناءالھدی قاسمی صاحب نائب ناظم امارت شریعہ پٹنہ حضرت مولانا افتخار حسین مدنی صاحب نائب صدر ملی فاونڈیشن دہلی حضرت مولانا ابوقمر قاسمی مدھوبنی مولانا انورحسین سیتامڑھی مولانا زین العابدین قاسمی بیگوسرائے وغیرہ ھیں
یہی وجہ ھیکہ یہ ٹرسٹ پسماندہ طبقہ کے اندر دینی ماحول قائم کرنے کیلئے علاقہ میں دینی مکاتب قائم کررھےھین دین سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ ناگہانی آفات کے موقع پر امداد کرنے جیسے فلاحی کاموں میں مشغول ومصروف بے اس سال بہار کے اکثر اضلاع میں سیلاب نے قیامت برپاکیاھے جس وجہ کر علاقہ کے غریب عوام نفسانفسی میں گھرے ھوئے ہیں اس غم کو ہلکاکرنے کیلئے ٹرسٹ نے فکر کی اور صوبہ گجرات کے مشہور عالم دین وسرپرست اعلی جامعہ اشاعت العلوم سمستی پور جناب حضرت مولانا یوسف قاضی صاحب مدظلہ سے درخواست کی جسے حضرت موصوف نے قبول فرمایا اوراپنی اور اپنے خاندان بانگی فیملی کی طرف سے تعاون فرمایا اللہ تعالی حضرت کو صحت وعافیت عطافرمائے ہم سب انکے اور انکے تمام خویش واقارب کیلئے دعاگو اور شکر گزار ھیں اس موقع پر علاقہ کے کئی مشہور عوامی نمائندے وسماجی ورکر موجود تھے باالخصوص مولانا احسان قاسمی مولانا انصرالاسلام نعمانی امام چکمہسی جناب ابوبکر عرف صوفی و سمیع احمد عرف سنجو چکمہسی ماسٹر امتیاز مولانا فیروز قاسمی جناب مستقیم احمد صاحب وغیرہ ان حضرات نے ٹرسٹ وجامعہ کے بانی قاری ممتاز احمد جامعی کی فکرولگن اور کام کی ستائش کی کے پریشان مفلوک الحال لوگوں کی بروقت تعاون کیا جن میں حافظ محمد یحی بوچی ارریہ  مفتی محمد قمر توحید سمستی پور مولانا یاسین شنکرپور مدھوبنی محمد توقیر صلحا سمستی پور محمد شرف الدین منکولی سمستی پور وغیرہ
                                                                                                                       قاری ممتاز احمد جامعی           

Comments

Popular posts from this blog

حافظ عمران نے غریب و یتیم بچوں کو مفت میں کھانا و تعلیم دینے کی ذمے داری اٹھائی

   _ جھارکھنڈ کے گڈا ضلع کے 23 سالہ حافظ عمران نے ایک مثال قائم کر دی ہے، متوسط طبقہ میں پلے بڑھے حافظ عمران نے پڑھائی کے دوران کئی دشواریوں کا سامنا کیا، مشکل حالات کے مدِ نظر ہی سوچ لیا تھا کہ پڑھائی کر ہم بھی غریب و یتیم بچوں کو مفت میں کھانا و تعلیم دینے کی ذمے داری اٹھائیں گے، آج اسلامیہ معارف القرآن نامی ادارہ قائم کر اپنے خواب کو سچ کر دکھایا، اسلامیہ معارف القرآن حیدرآباد  میں قائم کیا ہے جہاں غریب بچوں کو دینی و دنیاوی تعلیم دینے کے ساتھ رہنے کا بھی انتظام ہے، اس ادارہ میں زیادہ تر بچے یوپی، بہار، جھارکھنڈ، کے ہیں، جہاں سبھی بچے کئی اساتذہ کی نگرانی میں رہتے ہیں، جو لوگ اپنے بچوں کو اس ادارہ میں بھیجنا چاہتے ہیں وہ لوگ اس نمبر(8210250669/8019524209)سے رابطہ کر سکتے ہیں، اور ویسے حضرات جو اس کام میں مدد کرنا چاہتے ہیں حافظ عمران سے رابطہ کر مدد کر سکتے ہیں.

اگر آج مولانا ابوالکلام آزاد ہوتے ؟

  انجینئرعفان نعمانی آج ہم  ملک کے اس مشہور شخصیت کو یاد کرنے جا رہے ہے جسکے یوم ولادت پر پورا ملک ایجوکیشن ڈے کے طور پر مناتا ہے اور وہ شخص آزاد ہند کے پہلے وزیرِ تعلیم اور قومی رہنما مولانا ابوالکلام آزاد  ہے جو ١١ نوومبر١٨٨٨ میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے تھے -  مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت کا احاطہ کرنا ایسا ہے جیسے کسی سمندر کی حد بندی کرنا ۔ دانشور، دور اندیش سیاست داں، مفکر، فلسفی ، خطیب ، صحافی اور عالی مرتبہ مجتہد جیسے القاب میں بھی ان کو قید نہیں کیا جا سکتا ۔ مولانا نے صرف ہندوستان کی آزادی میں اہم کردار ادا نہیں کیا اور نہ ہی یہ کہا جا سکتا ہے کہ آزادی کے بعد وزیر تعلیم کی حیثیت سے انہوں نے ملک کو بہت کچھ دیا ۔ مولانا ایسی شخصیت کے مالک تھے کہ زندگی  کے ہر شعبہ میں ان کی گراں قدر خدمات ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مولانا کے علم اور صلاحیتوں کا فائدہ مہاتما گاندھی ، نہرو اور پٹیل نے اٹھایا لیکن مسلمانوں نے ان کی صلاحیتوں کو پہچانا ہی نہیں اور ان کو کانگریس کے قائد کے طور پر دیکھتے رہے۔ ابھی حال ہی مے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد جانا ...

مضبوط جمہوریت کیلئے منتشرنہیں،متحدملت کی ضرورت

اے یو آصف 2011کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان میں 172ملین مسلمان ہیں۔اس کا سیدھامطلب یہ ہواکہ یہ ملک کی آبادی کا 14.2فیصد ہیں اوردوسری سب سے بڑی مذہبی کمیونٹی ہیں۔اس تلخ حقیقت کے باوجودکہ یہ تعلیمی ، معیشتی ، معاشرتی اورسیاسی میدانوں میں اپنی آبادی کے تناسب سے کافی پیچھے اورکمزورہیں،اس بات سے انکارنہیں کیاجاسکتاہے کہ انہوں نے ملک کی آزادی اوراسکے بعداس کے تعمیرنومیں کلیدی کرداراداکیاہے۔آج بھی اس ملک کومضبوط جمہوریت کیلئے ان کی ضرورت ہے مگرمنتشرنہیں، متحدملت کی شکل میں۔ کسی بھی ملت میں مختلف ملکوں ، مختلف مکاتب فکراورمختلف الخیال افرادکا پایاجانازندگی کی علامت ہوتاہے لیکن اختلاف سے انتشارمیں بدل جانے کی صورت میں یہ جہاں اس ملت کیلئے خطرناک بن جاتاہے وہیں ملک کیلئے بھی نقصاندہ ثابت ہوتاہے ۔اس حقیقت سے کون انکارکرسکتاہے کہ اتحادکی جتنی ضرورت ملت کوہے ، اتنی ہی ضرورت وطن عزیزکوہے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کوہے۔ شایدیہی وہ احساس ہے کہ جوکہ ان دنوں مسلم ملت کے اندرپایاجارہاہے اوراس کا اندازہ مختلف تنظیموں کے ذمہ داروں اوراکابرین کے موقف ،آراء اورخیالات کوسن کراورپڑھ کرہوتاہے۔گزشتہ ...